میر ببر علی انیس 1803 میں فیض آباد میں پیدا ہوئے، ان کے والد میر مستحسن خلیق خود بھی مرثیہ کے ایک بڑے اور نامور شاعر تھے۔ انیس کے پر دادا ضاحک اور دادا میر حسن(مصنف مثنوی سحر البیان)تھے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس خاندان کے شاعروں نے غزل سے ہٹ کر اپنی الگ راہ نکالی اور جس صنف کو ہاتھ لگایا اسے کمال تک پہنچا دیا۔ میر حسن مثنوی میں تو انیس مرثیہ میں اردو کے سب سے بڑے شاعر قرار دئے جا سکتے ہیں۔ شاعروں کے گھرانے میں پیدا ہونے کی وجہ سے انیس کی طبیعت بچپن سے ہی موزوں تھی اور چار پانچ برس کی ہی عمر میں کھیل کھیل میں ان کی زبان سے موزوں شعر نکل جاتے تھے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم فیض آباد میں ہی حاصل کی۔ مروجہ تعلیم کے علاوہ انہوں نے سپہ گری میں بھی مہارت حاصل کی۔ ان کا شمار علماء کی صف میں نہیں ہوتا ہے تاہم ان کی علمی معلومات کا سب کو اعتراف ہے۔ ایک بار انہوں نے سر منبر علم ہیئت کی روشنی میں سورج کے گرد زمین کی گردش کو ثابت کر دیا تھا۔ ان کو عربی اور فارسی کے علاوہ بھاشا(ہندی) سے بھی بہت دلچسپی تھی اور تلسی و ملک محمد جائسی کے کلام سے بخوبی واقف تھے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ لڑکپن میں خود کو ہندو ظاہر کرتے ہوئے ایک برہمن عالم سے ہندوستان کے مذہبی صحیفے سمجھنے جایا کرتے تھے۔ اسی طرح جب پاس پڑوس میں کسی کی موت ہو جاتی تھی تو وہ اس گھر کی خواتین کی نالہ و زاری اور اظہار غم کا گہرائی سے مطالعہ کرنے جایا کرتے تھے۔ یہ مشاہدات آگے چل کر ان کی مرثیہ نگاری میں بہت کام آئے۔جس طرح انیس کا کلام سحر آمیز ہے اسی طرح ان کا پڑھنا بھی مسحور کن تھا۔ منبر پر پہنچتےہی ان کی شخصیت بدل جاتی تھی۔ آواز کا اتار چڑھاؤ آنکھوں کی گردش اور ہاتھوں کی جنبش سے وہ اہل مجلس پر جادو کر دیتے تھے اور لوگوں کو تن بدن کا ہوش نہیں رہتا تھا۔ مرثیہ خوانی میں ان سے بڑھ کر ماہر کوئی نہیں پیدا ہوا۔ آخری عمر میں انہوں نے مرثیہ خوانی بہت کم کر دی تھی۔ 1874 ء میں لکھنؤ میں ان کا انتقال ہوا۔ انہوں نے تقریباً 200 مرثئے اور 125 سلام لکھے، اس کے علاوہ تقریباً 600 رباعیاں بھی ان کی یادگار ہیں۔